کنداپور،20؍ (ایس او نیوز) سعودی عرب کے ولی عہد اور مکہ کی مقدس سرزمین کے خلاف قابل اعتراض ریمارکس کے معاملے میں کنداپور تعلقہ کے کوٹیشور سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو 19 ماہ سعودی جیل میں گزارنے کے بعد رہا کردیا گیا اور وہ گذشتہ روز مینگلور ائرپورٹ ہوتے ہوئے کوٹیشور پہنچ گیا۔
بتایا گیا ہے کہ کچھ شرپسندوں نے بنگیرا کے نام پر سوشل میڈیا پر جعلی اکاؤنٹس بنا کر قابل اعتراض پوسٹیں کی تھیں۔ اس کے بعد ضلع اڈپی کے کوٹیشور کے رہنے والے بنگیرا کو دسمبر2019 میں فیس بک پر قابل اعتراض پوسٹ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ 17 اگست کو سعودی جیل سے رہا ہوا اور بدھ کو اپنے گھر واپس آیا۔
بنگیرا سعودی عرب میں ایئر کنڈیشنر ٹیکنیشن کے طور پر کام کرتا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ اس نے ہندوستانی حکومت کے ترمیم شدہ شہریت قانون (سی اے اے) کی حمایت میں ایک پوسٹ شیئر کی تھی،جس سے اس کا کفیل سخت ناراض ہوگیا تھا۔ بعد میں اس نے پوسٹ شیئر کرنے پر معذرت کی اور اپنا اکاونٹ بند کر دیا۔ دریں اثنا CAA کی حمایت میں پوسٹ سے ناراض مبینہ طور پر جنوبی کنڑا ضلع کے دو مسلمانوں نے فیس بک پراس کے نام سے ایک جعلی اکاؤنٹ کھولا اور اس پر قابل اعتراض پوسٹ کی۔ سعودی پولیس نے اس معاملے میں فوری کارروائی کرتے ہوئے بنگیرا کو گرفتار کر لیا۔
اس کے بعد اس کی بیوی سمن نے کنداپور پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی۔ سمن نے شکایت میں کہا کہ اس کا شوہر کسی سازش کا شکار ہے اوراس کے نام پر جعلی اکاؤنٹ کھولا گیا ہے۔
پولیس کی تفتیش سے پتہ چلا کہ بنگیرا کا اس اکاؤنٹ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ جعلی اکاؤنٹس بنانے والے دونوں ملزمان کو گزشتہ سال اکتوبر میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اڈپی پولیس نے معاملے کی معلومات سعودی عرب کی حکومت کے ساتھ شیئر کی جس کے بعد بنگیرا کی رہائی کا راستہ صاف ہوگیا۔
سماجی کارکن رابندر ناتھ شان بھاگ ، سابق وزیر کے جے پرکاش ہیگڑے، ایم ایل اے ایچ سرینواس شیٹی اور پولیس حکام سمیت کئی لوگوں نے بنگیرا کی رہائی کے لیے کوششیں کیں۔ اڈپی پولیس کی کوششوں اور بعد میں مرکزی وزیر مملکت برائے زراعت شوبھا کرندلاجے اور کئی دیگر رہنماؤں کی مداخلت کے نتیجے میں بنگیرا کو 17 اگست کو سعودی جیل سے رہا کیا گیا۔ جب بنگیرا بدھ کی صبح سعودی عرب سے منگلور ائرپورٹ پہنچا تواس کے دوست بھی بنگلورو ایئرپورٹ پر موجود تھے۔ اڈپی ضلع کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس وشنووردھن نے بنگیرا کی رہائی پر خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ جعلی اکاؤنٹس بنانے والے دو افراد کے خلاف مقدمہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔